Beauty Advise

دانے مہاسے کیوں نکلتے ہیں؟ اور کس طرح نجات ممکن ہے

مہاسے/ دانے کیوں نکلتے ہیں اور ان سے کس طرح نجات حاصل کی جا سکتی ہے؟
 
ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ نو عمری کا زمانہ جسے ہم انگریزی میں ’’ٹین ایج‘‘ (teenage) کہتے ہیں، ہماری زندگی کا سب سے زیادہ طوفانی اور متلاطم زمانہ ہوتا ہے۔ فی الحقیقت ماہرین نفسیات کے مطابق ٹین ایج کے دور کو ’’طوفان اور اضطراب‘‘ کا دور کہا جاتا ہے یہ وہ دور ہوتا ہے جب انسان کو جسمانی اور ذہنی ہر دو اعتبار سے بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
ٹین ایج کا زمانہ انسانی زندگی کا وہ زمانہ ہوتا ہے جب انسان زبردست تبدیلیوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں پسندیدہ بھی ہوتی ہیں اور ناپسندیدہ بھی۔ ٹین ایج کے نو عمروں کا ایک بڑا مسئلہ ایکنی مہاسوں کا ہے۔
 
acne-vulgaris.jpg
پندرہ سے پچیس سال تک کے افراد مہاسوں کا شکار ہیں
 
آپ کی بہترین سہیلی نے آج رات سالگرہ پارٹی رکھی ہے اور آپ وہاں جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آپ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئیں، اپنے بالوں کو ایک نئے اسٹائل سے سنوارنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ اچانک آپ کی نظر اس پر پڑتی ہے۔ عین آپ کی ٹھوڑی کے اوپر…. ایک بڑا سا، موٹا سا مہاسا موجود ہے۔ آپ پریشان ہو جاتی ہیں اور اپنے چہرے کو زیادہ غور سے دیکھنا شروع کرتی ہیں اور آپ کو اپنے گال پر ایک اور چھوٹا سا مہاسا نظر آتا ہے۔ آپ پیشانی پر سے بالوں کو ہٹاتی ہیں اور آپ کو اپنی پیشانی پر مزید کئی مہاسے نظر آتے ہیں۔
bigstock_Group_Of_Teenagers_Students_3403007_19.jpg
 
اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کے بھی مہاسے نکلتے تھے تو اس بات کے پورے امکانات موجود ہیں کہ آپ کے بھی مہاسے نکل آئیں گے اور اگر ان دونوں ہی کے مہاسے نکلتے تھے تو پھر اس بات کے امکانات اور بھی زیادہ وسیع ہو جاتے ہیں کہ آپ کے بھی مہاسے نکلیں۔
اگر آپ کے چہرے پر مہاسے ہیں تو ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے…. آپ کو جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ اس معاملے میں آپ تنہا نہیں۔ بارہ سے پچیس سال تک کی عمر کے تقریباً پچاس فیصدی افراد مہاسوں کا شکار ہوتے ہیں۔ بیشتر ٹین ایجرز کے چہروں پر نکلنے والے مہاسے معمولی عرصے کے ہوتے ہیں جنھیں بغیر سوجن والے مہاسے کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے منہ سفید یا سیاہ ہوتے ہیں اور اکثر نکلتے رہتے ہیں۔
 
لیکن بعض لوگ زیادہ شدید قسم کے مہاسوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جنھیں سوجن والے مہاسے کہا جاتا ہے یہ مسلسل نکلتے رہتے ہیں اور چہرے پر پھیلتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات تو چہرے کا بڑا حصہ ان سے ڈھک جاتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ دانے چہرے کے علاوہ گردن، پشت، سینہ اور جبڑوں تک پر نکل آتے ہیں۔ یہ زیادہ شدت اختیار کر جائیں تو ان میں پیپ بھی پڑ جاتی ہے اور یہ اکثر اپنے پیچھے یا تو چھوٹے چھوٹے سوراخ چھوڑ جاتے ہیں یا نشانات۔ یہ برابر نکلتے رہتے ہیں اور سخت پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
acne1.jpg
 
مہاسے اس وقت نکلنا شروع ہوتے ہیں جب وہ غدود یعنی گلینڈز جو Sebum نامی ایک روغنی مادہ پیدا کرتے ہیں، ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں اور ’’اوورٹائم‘‘ کرنے لگتے ہیں۔
اس کی وجہ غالباً ہارمونز کی تبدیلی ہوتی ہے جو کہ اس وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ سیبیم کا ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ان خلیوں کو جنھیں غدود نے خارج کیا ہے جلد کی سطح تک لے جائے لیکن چونکہ وافر سیبیم گلینڈز کے راستے کو روک دیتا ہے اس لیے خلیے اور سیبیم دونوں صحیح ہو جاتے ہیں اور ایک پلگ کی تشکلی کرتے ہیں جو کو Comedo  کہتے ہیں۔
اگر پلگ جلد کی سطح کے نیچے رہتا ہے جو تو اس کا رنگ ہلکا ہوتا ہے اور اس کا منہ سفید ہو جاتا ہے۔ اس کو وائٹ ہیڈ کہتے ہیں۔ یہ کوئی دھول مٹی جیسی شے نہیں ہوتی اور دھونے سے صاف نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جلد کا رنگ سیاہ ہونے لگتا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو پھر جلد پر دانے نمودار ہونے لگتے ہیں۔
 
acne-juvenil-causas-acne-como-se-forma-el-acne-que-es-el-acne-soluciones-contra-los-granos-granos-en-niños-tratamientos-acne.jpg
مہاسے کیوں نکلتے ہیں؟
 
لڑکیوں کے عام طور پر بارہ سال کی عمر میں اور لڑکوں کے کوئی تیرہ سال کی عمر میں مہاسے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انڈروجین Androgen نامی ایک ہارمون مہاسوں کی تشکلیل کا ایک سبب ہے۔ انڈروجین ان غدودوں کو فعال کرتا ہے جو سیبیم کی تشکیل کرتے ہیں۔ بلوغت کے بعد لڑکوں کے جسم میں لڑکیوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ اینڈروجین پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کے زیادہ مہاسے نکلتے ہیں۔
teenage-acne-treatment_0.jpg
 
بعض دوسری چیزیں بھی مہاسوں کا سببب بن سکتی ہیں یا ان کی شدت میں اور زیادہ اضافہ کر سکتی ہیں۔ ان میں بعض قسم کی ادویات شامل ہیں مثلاً ایسی دوائیں جو مرگی یا تپ دق کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ مغز، تیل، گریز اور کیمیاوی مادوں کے اثرات بھی مہاسوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ یا شدید جذباتی کیفیت بھی مہاسے نکلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ کبھی کبھار چکنے کاسمیٹکس اور شیمپوز بھی ان لوگوں میں زیادہ مہاسے نکلنے کا سبب بن جاتے ہیں جن میں مہاسے نکلنے کا رجحان موجود ہوتا ہے۔
 
 
جلدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہاسوں کا شکار ہونے والے لوگوں کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ جلدی امراض کے ماہرین سے رجوع کریں تاکہ اس امر کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ مہاسے ہی ہیں یا کچھ اور ہے۔ بعض دوسری وجوہات سے نکلنے والے دانے بھی، جیسے میک اپ یا بعض دواؤں کے اثر کے تحت نکلنے والے دانے بھی مہاسوں کی طرح ہو سکتے ہیں اور ان کے اندر وہ ساری علامتیں موجود ہو سکتی ہیں جو مہاسوں کی علامات ہیں۔
sensitiveskin.jpg
بہت سی نوجوان لڑکیاں اس بات کو خاص طور سے محسوس کرتی ہیں کہ مہینے کے خصوصی ایام کے دوران ان کے زیادہ مہاسے نکلتے ہیں۔ فی الحقیقت بعض تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً ستر فیصد لڑکیوں کو اپنے خصوصی ایام کے آغاز سے کوئی ایک ہفتہ پہلے مہاسوں میں شدت پیدا ہو جانے کا احساس ہوتا ہے۔
 
چکنی جلد یا چکنے بال مہاسوں کا سبب نہیں بنتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چیزوں کا مہاسوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ مہاسوں کی شدت اور تیل کی اس مقدار کے درمیان جو کسی شخص کی جلد سے پیدا ہوتا ہے ایک تعلق موجود ہے تاہم وہ تمام لوگ مہاسوں کا شکار نہیں ہوتے جو چکنی جلد کے حامل ہوتے ہیں۔ نیز خشک جلد والے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے مہاسے نکلتے ہیں
مہاسوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
 
سوئیڈن کے بعض محقیقین کی تحقیق کے مطابق بیشر لوگوں کے مہاسوں میں اس وقت بہترین کی صورت پیدا ہوئی جب ان لوگوں نے دھوپ میں وقت گزارا۔ لیکن تمام ڈاکٹر اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ سورج کی روشنی مہاسوں کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بعض ڈاکٹروں کا یہ خیال ہے کہ محض دھوپ میں ذرا دیر کے لیے آرام کرنے سے مہاسوں کی شدت میں کچھ کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ بہرصورت یہ تصور بالکل غلط ہے کہ چکنی جلد کو دھوپ میں خشک کرنے سے مہاسے غائب ہو جاتے ہیں کیونکہ دھوپ اور گرمی سے تو تیل کے بننے میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
alcohol-acne-yahoo-tape-remove-blackheads-duct-w2g.jpg
 
بالکل ہلکے اور معمولی قسم کے مہاسوں سے تو چہرے کو دن میں دو تین بار دھونے سے ہی نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی کھانے پینے کی ان اشیا سے بھی پرہیز کیا جائے جن کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ ان کے استعمال سے آپ کے جسم میں مہاسوں کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو آپ مہاسوں کی کوئی ایسی دوا استعمال کر سکتی ہیں جسے براہ راست جِلد پر لگایا جاتا ہے۔ ایسی دوائیں بازار میں کسی پابندی کے بغیر مل جاتی ہیں۔ ان میں وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جنھیں ہلکے قسم کے مہاسوں کے علاج کے لیے سود مند قرار دیا گیا ہے۔
 
یہ تمام دوائیں چھلائی کا کام کرتی ہیں جس کے باعث جلد میں خارش کی سی کیفیت اور خشکی پیدا ہوتی ہے جس کے باعث جسم میں موجود پلگ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور مردہ خلیے جھر کر الگ ہو جاتے ہیں۔ دوائیاں بیکٹیریا کی تشکلی کو بھی روک سکتی ہیں جس سے چربی والے تیزابوں کے بننے میں کمی واقع ہوتی ہے جو مہاسوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
مہاسوں کو کھینچ کر یا نوچ کر نکالنے کی کوشش کبھی نہیں کرنی چاہیے، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس کی وجہ سے جلد زخمی ہو سکتی ہے اور جلد کے ٹشوز کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر آپ کے چہرے پر ایسے مہاسے موجود ہیں جو گھریلو علاج سے ٹھیک نہیں ہوتے تو بہتر ہو گا کہ آپ جلدی امراض کے کسی ماہر سے رجوع کریں۔
 
بعض اوقات جلدی امراض کے ماہرین کالنے دانوں یعنی Black Heads کو نکالنے کے لیے Comedo نامی آلات کا استعمال کرتے ہیں۔ بڑے بڑے دانوں کو بعض اوقات آپریشن کے ذریعے بھی نکالا جاتا ہے۔
ایسی دوائیں بھی موجود ہیں جنھیں زیادہ خراب صورت حال میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں ٹیٹراسائیکلین Tetracycline اور ایزی تھرومائی سین جیسی اینٹی بائیوٹک دوائیں شامل ہیں۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر یہ سارے اقدامات نہ کیے گئے ہوں یا ان سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ہو تو مہاسوں کے داغ مستقل طور پر باقی رہ جاتے ہیں اور جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جلد میں پڑ جانے والے گڑھوں یا پیدا ہو جانے والے نشانات کو ختم کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری استعمال کی جاتی ہے۔
مہاسوں اور ٹین ایجرز کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اب ایسے طریقے موجود ہین جن کی مدد سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے اور جلد کو خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
714.jpg
 
مہاسوں اور پھنسیوں کا روشنی سے علاج
 
30 اور 40 سال کے درمیان عمر کی خواتین دباؤ اور ذہنی ٹینشن کے سبب ایکنی کا شکار ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نئی  لائٹ تھراپی اس کے علاج کے سلسلے میں امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔
لندن کے بیمراسمتھ ہاسپٹل کے ماہرین نے ایک لائٹ بکس ایجاد کیا ہے جس کا نام ’’ڈرماٹکس‘‘ Dermatix  ہے۔
یہ طب کے میدان میں پمپلز یا ایکنی کے علاج کا ایک جدید ترین ٹریمنٹ ہے۔
ان خواتین کے کلینیکل ٹرائل سے کہ جو ہلکے سے لے کر معتدل ایکنی کا شکار تھیں اس نے دریافت کیا کہ ان مریضاؤں میں سے جنھوں نے لائٹ بکس استعمال کیا 76 فیصد کو 12 ہفتوں میں ایکنی سے یکسر نجات مل گئی یا ان میں نمایاں بہتری واقع ہوئی۔
ڈرماٹکس میں ایسے فلوریسینٹ لیمپ استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ جلد پر روشنی کی نیل اور سرخ طول موجوں یعنی Wave Lengths کی چمک ڈالتے ہیں۔ نیلی روشن جلد میں آکسیجن پیدا کرتی ہے جو کہ بیکٹیریاز کو ہلاک کر دیتی ہے جبکہ سرخ روشنی مندمل کرنے کے اثرات رکھتی ہے۔ مریضائیں ہر روز پندرہ منٹ تک اپنی جلد کو اس بکس کے سامنے ایکسپوز کرتی ہیں۔
ایکنی کا شکار اکثر خواتین اس بات سے پہلے ہی سے واقف ہوتی ہیں کہ روشنی کا ان کی جلد پر مثبت اثر ہو رہا ہے اور یہ گرمیوں میں ان دانوں کو صاف کر دے گی۔
PRinc_rm_photo_of_teen_at_dermatologist.jpg
ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ ڈرماٹکس ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت کی حامل ہے البتہ یہ تکنیک کچھ مہنگی ضرور ہے۔ ڈاکٹرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر علاج اس وقت تک پابندی سے کرایا جائے کہ جلد بالکل صاف ہو جائے تو پھر اس مہاسوں، پھنسیوں کے دورانیے کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار جب ان سے مکمل طور پر نجات حاصل ہو جائے تو پھر وہ مکینزم جو ایکنی کا سبب بنتا ہے اسے ہمیشہ کے لیے سوئچ آف کیا جا سکتا ہے یا اگر ایکنی کی شکایت دوبارہ پھر کبھی ہو بھی تو بہت ہی معمولی شکل میں۔

Categories: Beauty Advise, Skincare

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s