پچاس سال تک خوبصورت اور صحت مند رہنا مشکل نہیں

50 سال تک خوبصورت اور صحت مند رہنا مشکل نہیں
 
عمر کو بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک ایسی ناگزیر حقیقت ہے جسے ہم سب کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے لیکن یہ قطعی درست رویہ نہیں کہ ہم اپنی خوبصورتی، توانائی اور صحت میں آنے والی تبدیلی کو بڑھتی عمر سے منسوب کرتے رہیں۔ خشک ہوتی اور ڈھلکتی جلد، کمزور اور گرتے بال، رنگت میں زردی، آنکھوں کے نیچے حلقے اور موٹآپے کی طرف مائل جسم سمیت کئی دیگر مسائل عموماً ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
Screen Shot 2016-01-13 at 9.01.27 AM.png
 
اگر ہم اپنی عمر کے ساتھ جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے بدلتے تقاضوں پر بھی نظر رکھیں تو نہ صرف ہم اپنی اصل عمر سے دس سال پیچھے نظر آئیں گے بلکہ ہماری صحت بھی قابل رشک حد تک اچھی ہو گی۔
 
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں صحت مند، خوبصورت اور چاق و چوبند رکھنے میں غذا اور ورزش کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمیں سب سے پہلے انہی چیزوں پر توجہ دینا ہو گی اور اس کا آغاز اگرچہ پیدائش کے پہلے دن سے ہی کیا جانا چاہیے تاہم بیس سال کی عمر کے بعد خاص طور پر آپ کو اپنا طرز زندگی اس طرح کا رکھنا چاہیے جو مستقبل میں آپ کے لیے فائدے مند ثابت ہو۔ ہم آپ کو ان اہم باتوں کے بارے میں آگاہ کریں گے جن سے زندگی کی مختلف دہائیوں میں ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے تاکہ آپ ہر دہائی کو اس کے بدلتے تقاضوں کے مطابق بسر کر سکیں۔
 
women-different-ages-and-ethinicity_oncology-news-australia.jpg
 
20 سال اور آپ
 
خوبصورتی
 
یہ وہ عمر ہے جہاں خوب صورتی کے لیے عام طور پر مصنوعی سہاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کی جلد روشن اور پُرکشش ہے لیکن پھر بھی اگر دھوپ وغیرہ میں باہر نکلیں تو دھوپ سے بچاؤ کے لیے چشمہ اور کوئی اچھی سی کریم لگا لیا کریں۔ دن میں دوبار برش کریں، زیادہ پانی پئیں اور بھرپور نیند لیں۔
 
آپ کی جسمانی حالت
 
اس وقت آپ کا جسم اپنی زندگی کے خوبصورت ترین دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ آپ کے اعصاب اور اعضا کی مضبوطی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
آپ کے پھیپھڑوں میں سانس لینے کی گنجائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو بس پر بھاگ کر بھی سوار ہو سکتی ہیں لیکن بہتر ہے کہ اس طرح کے خطرات نہ مول لیں۔
جسم پر چربی کی مقدار میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر آپ نے اس پر توجہ نہیں دیت و پچیس سال کو پہنچنے تک یہ کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
جسم میں چربی جمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا کولیسٹرول بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور آپ دل کے دورہ کے خطرات کی طرف جا رہی ہیں۔
بلاشبہ اس وقت آپ کا مدافعتی نظام عروج پر ہوتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ عنفوان شباب یعنی ٹین ایج گزرتے ہی جسم کے مدافعتی نظام یعنی امیون سسٹم میں کمی آنا شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ تھائمس گلینڈز آہستہ آہستہ سکڑنے لگتے ہیں جس کے باعث مدافعتی نظام بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
ماہرین صحت کا خیال ہے کہ ایک دن میں بار سو کیلشیم ضرور لینے چاہیں۔ یاد رہے کہ دودھ کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ایسی ورزشیں کریں کہ وزن نہ بڑھنے پائے اور آپ کی ہڈیاں مضبوط رہیں۔
 
ایروبک ورزش جیسے کہ رسی پھلانگنا وغیرہ خاص طور پر بہت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کے پٹھے مضبوط رہتے ہیں بلکہ امراض قلب کے خطرات بھی کم سے کم رہ جاتے ہیں۔
maxresdefault.jpg
 
30 سال اور آپ
 
خوبصورتی
 
اگر آپ تین چار بچوں کی ماں نہیں بنی ہیں یا کسی غیر متوقع صدمے نے آپ کو متاثر نہیں کا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلد کی چمک و خوبصورتی بدستور قائم ہو گی لیکن اب آپ کو ہوشیار رہنا پڑے گا۔
چربیلے غدود (Sebaceous) اچھی خاصی تعداد میں تیل خارج کرتے ہیں۔ ازدواجی معاملات بھی درست رہتے ہیں۔
کچھ خواتین کو چہرے پر ایک بار پھر کیل وغیرہ نکلنا شروع ہو جاتے ہیں تاہم زیادہ تر ان سے محفوظ رہتی ہیں۔
اگر بالوں کا خیال رکھا گیا ہو تو یہ بدستور صحت مند اور چمکدار رہتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ اس عرصے میں دو تین سفید بال بھی آپ کو دکھائی دیں۔
 
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
دھوپ میں نکلنے سے پہلے دھوپ کا چشمہ لگانا نہ بھولیں۔ کلینزنگ جیل استعمال کریں۔
اگر مناسب ہو تو آئل فری موئسچرائزنگ بہتر رہے گی۔ کسی اچھے بیوٹی پارلر سے مختلف ماسکس اور اسکریننگ کروائیں۔
میک اپ کے لیے اچھی اور معیاری کمپنی کی مصنوعات استعمال کریں۔
اپنے بالوں کو بھی دھوپ کی تپش سے بچائیں۔ اینٹی الٹروائلٹ مصنوعات بہتر رہیں گی۔ آزمائے ہوئے اور بہتر نتائج کے حامل شیمپو استعمال کریں۔
 
آپ کی جسمانی حالت:
 
30 سال کے بعد ہڈیوں میں سالانہ ایک فیصد کمزوری واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ آپ سمجھ لیں کہ آپ کی ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
آپ کے جسم پر چربی بڑھنے کی رفتار میں مزید تیزی آ رہی ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ کو اس اضافی چربی کا خاص طور پر دھیان رکھنا ہو گا۔ بلکہ اس کے لیے عملی طور پر کوششیں بھی کرنا ہوں گی۔
عضلات کی کارکردگی بھی کم ہو جائے گی۔ اگر آپ کا جسم موٹاپے کی جانب گامزن ہے تو تیس سال کے بعد آپ کو اپنی خوراک سے 50 کیلوریز کم کرنا ہوں گی۔ اچھی قسم کے چاکلیٹ آپ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
کولیسٹرول کے بڑھنے کی رفتار بھی جاری رہے گی۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ دل کا دورہ کے خطرات بھی مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
روزانہ بارہ سو ملی گرام کیلشیم جاری رکھیں۔ کمزور ہوتے عضلات اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ورزش کا سلسلسہ منقطع نہ کریں۔
ایروبک ورزشیں کی جائیں تو اور زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہفتے میں تین سے پانچ دن آدھے گھنٹے کی ورزش کافی رہے گ۔ ورزش جاری رکھنے سے امراض قلب کا خطرہ کم سے کم ہو جائے گا۔
ورزش کرنے سے پہلے کم از کم پانچ منٹ تک خود کو وارم اپ کر لیا کریں۔ اپنی جسمانی لچک کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش کا مناسب ہونا ضرور ہے۔ بے ربط کھینچا تانی سے گریز کریں۔
دو تین ماہ بعد اپنا بلڈپریشر اور کولیسٹرول لیول چیک کراتے رہیں۔
اپنی خوراک پر بھی دھیان رکھیں۔ خاص طور پر چکنائی کی مقدار پر۔ اپنی غذا کی مجموعی کیلوریز کا صرف تیس فیصد حصہ چکنائی سے حاصل کریں۔ پھل اور سبزیاں جتنی زیادہ کھا سکیں کھائیں۔
women-different-ages-2_ieckve.jpg
 
 
40 سال اور آپ
 
خوبصورتی
 
بہت ممکن ہے کہ آپ کی آنکھوں اور منہ کے قریب لکیریں گہری ہونا شروع ہو جائیں۔
دھوپ آپ کے لیے مزید زیادہ نقصان کا باعث بن جائے گی اور اس کے اثرات بھی طاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
ممکن ہے کہ آپ کے جسم کے مسام بھی مکمل ہو جائیں جس سے جلد کی خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے۔
جسم میں تیل پیدا کرنے کی صلاحیت بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگے گی۔ جلد کو اس وقت زیادہ نمی کی ضرورت پڑے گی۔
بالوں کا قطر بھی کم ہونے لگے گا، ممکن ہے کہ بال گرنے کی رفتار تیز ہو جائے اور بال زیادہ تیزی سے سفید ہونے لگیں۔
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
فیشل کلینزنگ جاری رکھیں۔ اگر آپ کی جلد خشک ہے تو کلینزر کریم اور موئسچرائزر لوشن وغیرہ کا استعمال مفید رہے گا۔
آنکھوں کے گرد پیدا ہونے والی لکیروں کو چھپانے کے لیے کوئی اچھی سے آنکھوں کی کریم استعمال کریں۔
اگر جلد پر داغ دھبے یا تل وغیرہ نمودار ہو رہے ہیں تو کسی ماہر جلد کو صرور چیک کروائیں۔
بالوں کو صحت مند اور چمکدار رکھنے کے لیے کنڈیشنگ کروانا مت بھولیں۔
 
 
آپ کی جسمانی حالت:
 
آپ کے پھیپھڑے 20 سے 80 سال کی عمر کے درمیان کزمور ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ 80 سال کو پہنچتے ہیں تو پھیپھڑے 40 فیصد کمزور ہو جاتے ہیں۔ 40 ویں ال میں بھ پھیپھڑوں کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ بس کو بھاگ کر پکڑنے میں کہیں زیادہ خطرات کا سامان ہوتا ہے۔
تقریباً 43 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد قد سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی جادوئی کرشمہ نہیں بلکہ اس کی وجہ جسمانی ڈھانچے کا کمزور ہونا اور خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی کا کمزور ہونا ہے۔
ایک عام اندازے کے مطابق 80 سال کی عمر کو پہنچنے تک خواتین کا قد 50 ملی میٹر سکڑ جاتا ہے۔
جسمانی لچک میں واضح کمی آتی ہے۔ اب آپ اتنی آسانی سے پاؤں کے انگوٹھے نہیں چھو سکتیں۔ خاص طور پر اگر آپ ورزش وغیرہ نہیں کرتیں۔
اعضا کی مضبوطی میں بھی تیزی سے کمی آنے لگتی ہے۔ وزن وغیرہ اٹھانے میں بھی آپ کو احتیاط سے کام لینا پڑے گا۔
جسم میں چربی کا تناسب بھی تبدیل ہو گا۔ خاص طور پر جسم کا نچلا حصہ بھاری ہو جائے گا۔ ممکن ہے کہ کولہوں کا بھاری پن آپ کے لیے پریشانی کا سبب بھی بنے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کہ یہ جسمانی نظام کی قدرتی تکمیل کا نام ہے۔
جسم کا مدافعتی نظام بھی کمزور پڑنے لگے گا۔ آپ کو اپنی خوراک اور طرززندگی کے بارے میں محتاط رہنا ہو گا کیونکہ اب آپ خطرات کی زد میں ہیں۔ خاص طور پر آپ کسی بھی قسم کے انفیکشن میں بہت جلد مبتلا ہو سکتی ہیں۔
 
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
اگر آپ اس سے پہلے ورزش وغیرہ نہیں کرتیں تو ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ تین مختلف اوقات میں کم از کم دس منٹ کی چہل قدمی ضروری ہے۔ آپ اپنے اعضا کی کمزوری کے عمل کو سست کر سکتی ہیں۔ کیلشیم کا استعمال جاری رکھیں۔ یہ آپ کی ہڈیوں کو مضبوط رکھے گا۔
جوڑوں میں لچک کا برقرار رہنا ہڈی ٹوٹنے وغیرہ کے خدشات کم سے کم کر دیتا ہے۔
بلڈپریشر اور کولیسٹرول چیک کرتی رہیں اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک کو بھی تبدیل کرتی رہیں۔ خاص طور پر چکنائی کی زیادتی کے بارے میں محتاط رہیں۔
 
خوبصورتی
 
اگر آپ 45 سال کی ہو جاتی ہیں توا س دوران جسم میں تیل کی پیداوار میں مسلسل کمی جلد کو خشک اور کھردارا بنا سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ چہرے کا گلابی پن کم ہو جائے اور ناک سمیت رخساروں پر خون کی باریک شریانیں واضح ہو جائیں۔
جلد میں کولاجن (Collagen)  کی کمی کے باعث داغ دھبے زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
سورج کی شعائیں بھی جلد پر اپنا اثر دکھائیں گی۔ جلد غیر ہموار ہو سکتی ہے۔ جلد کے مردہ خلیات اُبھر کر جلد کی اوپری سطح پر آسکتے ہیں۔
جلد میں نمی کی مقدار میں بھی بہت زیادہ کمی آ سکتی ہے۔
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
نان کلوجنگ (Non-Clooging) موئسچرائزر کا استعمال کریں۔
ایکسفولی ایٹ (Exfoliate) کرانا بھی مفید رہے گا مگر اس کے لیے اچھی بیوٹیشن کی رہنمائی حاصل کرنا اہم ہے۔
ماہر جلد سے بھی مشورہ کرتی رہیں۔
جب بھی باہر نکلیں سن بلاک کریم اور لوشن استعمال کرنا مت بھولیں۔
ہفتے میں ایک مرتبہ بالوں کی ڈیپ کنڈیشن کرائیں۔
اچھے اور معیاری رنگ بھی بالوں کو نئی جان دے سکتے ہیں۔ بعض کریمیں بھی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
20-30s---Solutions-A-B.jpg
 
50 سال اور آپ
 
جسمانی حالت
آپ کے وزن میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایک عام اندازے کے مطابق 90 فیصد خواتین کا 30 سے لے کر 70 سال کی عمر میں 7 کلو وزن بڑھ جاتا ہے۔
یہ سن یاس یعنی حیض کی بندش کا دور ہوتا ہے۔ 50 سے 60 سال کے درمیان 35 ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں اور تین خواتین میں سے ایک کو آسٹیوپورسس یعنی ہڈیوں کی خستگی کا سامان کرنا پڑتا ہے جس میں ذرا سی چوٹ سے ہڈی کے ٹوٹ جانے کا احتمال ہوتا ہے۔
ریڑھ کی ہڈی بھی کمزور پڑنے لگتی ہے جس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے۔
حیض کی بندش کے بعد جسم پر چربی کی مقدار میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ کمر چوڑی ہو جاتی ہے جبکہ پیٹ بھی بڑھ جاتا ہے۔
سن یاس کے بعد دل کے امراض کے خطرات کئی گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
ہڈیوں اور اعضا کی کمزوری کے خلاف آپ نے جنگ کرنی ہے اور آپ سے زیادہ اپنے جسم کو کوئی نہیں جانتا۔ بالکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا بھی آپ کے لیے نقصان دہ ہے آپ تھوڑی بہت وزن اٹھاتی رہیں۔ گھر کے کام جتنے ہو سکیں ضرور کریں۔
وقتاً فوقتاً ادویات کا سہارا لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن کوشش کریں کہ اسے عادت نہ بنایا جائے۔
ایروبک ورزشیں بدستور کارآمد ہیں لیکن اب آپ کو زیادہ سخت ورزش سے بچنا ہے۔ ہفتے میں تین سے پانچ دفعہ بیس سے تیس منٹ کی چہل قدمی ضرور کریں۔ یہ آ کو دل کے امراض اور ہڈیوں کی خستگی کے خطرات سے بھی کسی حد تک بچائے رکھتی ہے۔
یوگا اور سانس کی ورزشیں بھی کارآمد ہو سکتی ہیں۔
بلڈپریشر اور کولیسٹرول کا اندازہ کرنے کے لیے سالانہ بنیادوں پر میموگرام تشکلیل دیں۔
اپنی غذا پر بھی نظر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ اب آپ کا معدہ نوجوانوں جیسا نہیں رہا۔ اس پر صرف اتنا بوجھ ڈالیں جتنا یہ آسانی سے اٹھا سکتا ہو۔
 
خوبصورتی
 
عام طور پر جلد 50 سال میں خشک ہو جاتی ہے اور ممکن ہے بعض اوقات جلد خارش زدہ بھی ہو جائے۔
گردن میں لکیریں زیادہ نمایاں ہو جائیں گی اور جلد ڈھلکنے لگے گی۔
ممکن ہے کہ ناخن بہت زیادہ کمزور ہو جائیں اور کبھی کبھار جڑوں سے اکھڑ بھی سکتے ہیں۔
جسم میں تیل پیدا کرنے والے گلینڈ کی کارکردگی انتہائی کم ہوجائے گی۔
جلد کے مسام آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں گے، جلد کے داغ دھبے اور جھریاں زیادہ نمایاں ہو جائیں گی۔ خاص طور پر چہرے، گردن اور ہاتھوں پر لکیریں زیادہ دکھائی دینے لگیں گی۔
بال جلد ٹوٹنے اور گرنے لگیں گے اور ان کا 50 فیصد حصہ سفید ہو جائے گا۔
 
 
کیا کرنا چاہیے؟
 
کلینزنگ اور موئسچرائزنگ کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھیں۔
سن بلاک لوشن اور کریموں کا استعمال کرتی رہیں۔ 
ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔ گرم پانی جلد کو خشک کرتا ہے۔
باڈی لوشن اور تیل سے جلد کو نرم رکھنے کی کوشش جاری رکھیں۔
بالوں کو روزانہ مت دھوئیں۔ پتلے اور باریک بالوں کے لیے آنے والا شیمپو استعمال کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔
images (1)