Beauty Advise

احتیاط علاج سے بہتر ہے، اپنے چہرے کو دھوپ سے اچھی طرح بچائیں

غیر معیاری مصنوعات، داغ دھبوں کا باعث بنتی ہیں اور ہر کام میں اعتدال سب سے خوب صورت چیز ہے

Image_4677214_445_0.jpg

عام طور پر گورے رنگ کو خوب صورتی سمجھا جاتا ہے مگر دراصل خوب صورتی یا کشش رنگ کے سفید ہونے میں نہیں بلکہ بے داغ اور چمک دار ہونے میں ہے، سانولے رنگ والی خواتین اکثر زیادہ پر کشش لگتی ہیں۔ غور کریں تو ان کی جلد بے داغ ہموار اور چمک دار ہوتی ہے لہٰذا چہرے پر پڑنے والا کوئی بھی داغ آپ کی شخصیت میں کمی لا سکتا ہے۔ ان کو دور کرنے کی طرف فوری توجہ دینا چاہیے۔ پہلے ہم ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں جو عام طورپر داغ دھبوں اور جھائیوں کا باعث بنتی ہیں۔ 

A-woman-rubbing-moisturiz-009

یہ ایسا مسئلہ ہے جو ہر قسم کی جلد کے ساتھ در پیش ہے یعنی چکنی خشک یا ملی جلی کوئی بھی قسم ہو، یہ مسئلہ ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کی وجوہ اندرونی اور بیرونی دونوں ہوتی ہیں۔ اندرونی وجوہ سے مراد ہارمون کا توازن بگڑ جانا، نیند کی کمی، خون میں آئرن کی کمی، مانع حمل ادویات یا کسی بھی دوا کا مسلسل استعمال، پانی کا نا کافی پینا، غذا کا متوازن نہ ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ اور بیرونی وجوہ میں سب سے اہم عام دھوپ میں احتیاط نہ کرنا۔یا غیر معیاری آرائش حسن کی مصنوعات کو چہرے پر لگانا ہے، وجہ کوئی بھی ہو ان کا دور کرنا بے حد ضروری ہے ، ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ان کا علاج ایک بار ہو جائے اور یہ ختم ہو بھی جائیں تو مسلسل توجہ رکھنا پڑتی ہے ورنہ یہ دوبارہ ہو جاتی ہیں۔ 

How-to-Apply-Eye-Cream-Correctly.jpg

احتیاط علاج سے بہتر ہے، اپنے چہرے کو دھوپ سے اچھی طرح بچائیں اس سلسلے میں اپنے چہرے پر استعمال ہونے والی کوئی بھی مصنوع چاہے جلد کی حفاظت کی ہو یا میک اپ کی ، غیر معیاری استعمال نہ کریں اور اپنی جلد کی قسم کو پیش نظر رکھتے ہوئے استعمال کریں۔

makeup21.jpg

ضروری نہیں جو چیز آپ کی بہن یا سہیلی کو فائدہ پہنچا رہی ہو، وہ آپ کو بھی فائدہ دے۔ اس لیے ’’ سنی سنائی‘‘ باتوں پر ہر گزعمل نہ کریں، ہمیشہ اپنی جلد کے لحاظ سے پروڈکٹ خریدیں بہتر ہے کہ کسی ماہر آرائش حسن سے مشورے کے بعد ہی کریمیں اور میک اپ کی چیزیں استعمال کریں، کچھ شیڈ زاچھے لگنے پر خرید لیے جاتے ہیں مگر اس کا معیار اتنا خراب ہوتا ہے کہ وہ وقتی خوب صورتی تو دیتا ہے مگر داغ دھبے جلد میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مثلاً زیادہ تر گالوں پر استعمال کرنے والے بلشر اگر غیر معیاری ہوں ، تو دھوپ کو زیادہ جذب کرتے ہیں اس لیے داغ دھبے اور جھائیاں ہو جاتی ہیں۔ 

dark-spots1

یہاں تھوڑی سی وضاحت یوں ضروری ہے کہ جھائیاں کوئی باہر سے آنے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی طور پر ہر شخص کی جلد میں موجود خلیوںمیں چند مرکب کی وجہ سے ہوجاتی ہیں، دراصل یہ ایک ایسا چوکیدار ہے،جو جلد کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر پیدا کیا ہے ورنہ جن لوگوں میں یہ کم ہو ، وہاں جلد کے کینسر کی بیماری عام ہوتی ہے لیکن اگر یہ چوکیدار مالک سے خوش نہ ہو ، تو وہ گھر میں ہی چوری کروا دیتا ہے۔یعنی اگر آپ اس چوکیدار کو ناراض کر دیں، تو خطرہ بڑھ جاتا ہے ، اس لیے اس کو قابو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مناسب دیکھ بھال کی جائے۔

PCP.jpg

دھوپ میں نکلتے ہوئے اپنے چہرے پر سایہ رکھیں مناسب سن بلاک ضرور لگائیں۔ کاٹن کے کپڑے کا دوپٹہ یا اسکارف استعمال کریں ، پولیسٹر یا نائلون ملے کپڑے کو چہرے کے ارد گرد لپیٹ کر نہ رکھیں، یہ ہر لحاظ سے غیر محفوظ ہوتاہے۔اپنی روز مرہ کی زندگی میں پانی کااستعمال کثرت سے کریں، یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔

xsuncare-770x418.jpg.pagespeed.ic.-GCzz8OVYi

images.jpg

پانی غذا کا خیال رکھیں یعنی متوازن خوراک لیں، چکنائی اور تیز مرچ مسالے نمک سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ سب چیزیں آپ کے اندر تیزابیت کو بڑھا دیتی ہیں اس کی سادہ سی پہچان پسینے میں بد بو تیز ہو، تو کچھ دن تیزمرچ مسالوں کا استعمال ترک کر دیں اور پانی زیادہ پی کر دیکھیں یقینا افاقہ ہوگا۔

dau-dau-man-tinh-canh-bao-ung-thu-nao.jpg

اس کے بعد اپنی نیند کا خیال رکھیں، نیند بھی ایک ایساخوب صورت وقت ہے، جب ہم تو بے خبر ہو جاتے ہیں مگر ہمارے اندرونی نظام اپنی مرمت خود بہ خود کررہے ہوتے ہیں۔ جس طرح گاڑی کو بہتر حالت میں رکھنے کے لیے گاہے بہ گاہے ورکشاپ سروس کے لیے بھیجنا ضروری ہے، اس طرح اپنی اچھی صحت کے لیے نیند کا پورا ہونا بھی ضروری ہے اگر مصروفیت کی وجہ سے نیند پوری نہ ہو رہی ہو، تو اپنے دن بھر کے کام لکھ کر منصوبہ بندی کر کے معاملات کو نمٹائیں، اکثر ہماری بے ترتیب مصروفیت ہی کام کا وقت بڑھا دیتی ہیں، اعصاب میں جھنجلاہٹ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔

how-sound-sleep-can-you-make-your-skin-glowing

کئی دوائوں کا مسلسل استعمال بھی جھائیوں کا سبب ہو سکتا ہے، اچھی طرح اپنے مسئلے کو پرکھیں اور اس وجہ کو دور کریں جو اس کا سبب ہے، اس کے بعد علاج کی بات آتی ہے، بے شک بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل توجہ اور نگرانی رکھنا پڑتی ہے باقاعدہ اچھی جگہ سے فیشل لیں، اپنی ماہر آرائش یا ڈاکٹر کے مشورے سے وہ کریم یا دوا استعمال کریں، جو ان کو دور کرنے میں بہترین کام کرتی ہیں،

woman-taking-pill-with-water---picture-data.jpg

مگر پھر وہی بات کہ ہر ایک کے لیے ایک ہی چیز کا ر آمد نہیں ہو سکتی مشورہ ضروری ہے اور باقاعدہ مسلسل فیشل بھی ضرور لیں اور عام سبب بلیچ کا با کثرت استعمال بھی ہے، گھر میں رہ کر خواتین بازار سے ملنے والی عام بلیچ ، کریم مسلسل استعمال کرتی رہتی ہیں۔ جو بے حد خطرناک ہے کیوں کہ کم از کم ایک ماہ سے دو ماہ کا وقفہ ضروری ہے بلیچ کے بعد چہرے کو کم از کم ۸ گھنٹے تک دھوپ سے بچائیں، وہ چیزیں جو نقصان دہ ہیں۔ مثلاً اسکرب وغیرہ ان کو بھی روزانہ استعمال نہ کریں، جلد کے اوپر سے حفاظتی تہیں زبر دستی اتار دینے سے نازک جلد اوپر آجاتی ہے۔ جو بہت زیادہ توجہ اور نگرانی مانگتی ہیں، یہ نازک جلد ہر طرح کے مسئلے کا شکار ہو سکتی ہے، اس لیے زبردستی اسکرب نہ کریں، کسی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اعتدال سب سے خوب صورت چیز ہے

c700x420

Categories: Beauty Advise, Skincare

Tagged as:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s